Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تشنہ لبی سے اتنے ہوئے بد حواس لوگ

کاشف بیگ کاشف

تشنہ لبی سے اتنے ہوئے بد حواس لوگ

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    تشنہ لبی سے اتنے ہوئے بد حواس لوگ

    سوکھے کنوؤں سے کہنے لگے پیاس پیاس لوگ

    ہوتے ہیں اس لئے بھی یہاں پر ہراس لوگ

    لوگوں سے ہی لگائے ہوئے ہیں جو آس لوگ

    چاہا تو ایک شخص بھی حاصل نہیں ہوا

    دیکھا تو پھر رہے تھے مرے آس پاس لوگ

    یہ حادثہ نہیں کوئی سازش ہے دوستو

    غرقاب کیسے ہو گئے دریا شناس لوگ

    چہرے پہ کوئی فکر ہو بکھرے ہوئے ہوں بال

    کیا ہی حسین لگتے ہیں پھر ہم اداس لوگ

    ہم خوش مزاج لوگ تھے رکھے ہی رہ گئے

    ہر شخص چاہتا ہے یہاں خوش لباس لوگ

    کاشفؔ یہاں پہ آپ کا کیا کام جائیے

    بیٹھے ہوئے ہیں سارے یہاں خاص خاص لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے