تشنہ لبی سے اتنے ہوئے بد حواس لوگ
تشنہ لبی سے اتنے ہوئے بد حواس لوگ
سوکھے کنوؤں سے کہنے لگے پیاس پیاس لوگ
ہوتے ہیں اس لئے بھی یہاں پر ہراس لوگ
لوگوں سے ہی لگائے ہوئے ہیں جو آس لوگ
چاہا تو ایک شخص بھی حاصل نہیں ہوا
دیکھا تو پھر رہے تھے مرے آس پاس لوگ
یہ حادثہ نہیں کوئی سازش ہے دوستو
غرقاب کیسے ہو گئے دریا شناس لوگ
چہرے پہ کوئی فکر ہو بکھرے ہوئے ہوں بال
کیا ہی حسین لگتے ہیں پھر ہم اداس لوگ
ہم خوش مزاج لوگ تھے رکھے ہی رہ گئے
ہر شخص چاہتا ہے یہاں خوش لباس لوگ
کاشفؔ یہاں پہ آپ کا کیا کام جائیے
بیٹھے ہوئے ہیں سارے یہاں خاص خاص لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.