رغبت مجھے اس واسطے بازار سے کم ہے
رغبت مجھے اس واسطے بازار سے کم ہے
موجود مری جیب میں درکار سے کم ہے
برگد کے گھنے پیڑ تلے رک تو گئے ہیں
سایہ مگر اس کا تری دیوار سے کم ہے
یہ سوچ کے زنجیر ہلائی نہیں میں نے
دکھ میرا ابھی تک ترے معیار سے کم ہے
اظہار میں جذبے کی صداقت نہیں اتری
لفظوں میں نمی چشم عزا دار سے کم ہے
فن میں تو بلند اس سے بہت ہے مرا قامت
توقیر مگر صاحب دستار سے کم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.