اپنے رنج و الم میں سناتا رہا برف گرتی رہی
اپنے رنج و الم میں سناتا رہا برف گرتی رہی
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا برف گرتی رہی
تپتے صحراؤں میں تن سلگتے رہے لوگ مرتے رہے
اور چناروں کو کوئی جلاتا رہا برف گرتی رہی
وہ شجر جو محبت کی پہچان تھے کٹ کے بہتے رہے
میں پرندوں کو پانی پلاتا رہا برف گرتی رہی
میرے ساتھی پرندے مہاجر ہوئے دیکھ لو پھر بھی میں
راستے جنگلوں میں بناتا رہا برف گرتی رہی
وہ پہاڑوں کی مٹی جو زرخیز تھی میرے گھر آ گئی
اور پانی گھروں کو گراتا رہا برف گرتی رہی
کوئی منزل کی جانب رواں تھا مگر کوئی منزل نہ تھی
کوئی رستے میں آنسو بہاتا رہا برف گرتی رہی
ایک حسرت تھی جو سرد لہجوں تلے دب گئی تھی مگر
میں زمانے کو قصے سناتا رہا برف گرتی رہی
میری آواز تھی شور دریا کا تھا میرے مرنے پہ بھی
لوگ ہنستے رہے میں بلاتا رہا برف گرتی رہی
دیکھ اظہرؔ چلے خشک دریاؤں کو میرے خانہ بدوش
اک دیا رات بھر ٹمٹماتا رہا برف گرتی رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.