Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنے رنج و الم میں سناتا رہا برف گرتی رہی

اظہر سجاد

اپنے رنج و الم میں سناتا رہا برف گرتی رہی

اظہر سجاد

MORE BYاظہر سجاد

    اپنے رنج و الم میں سناتا رہا برف گرتی رہی

    وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا برف گرتی رہی

    تپتے صحراؤں میں تن سلگتے رہے لوگ مرتے رہے

    اور چناروں کو کوئی جلاتا رہا برف گرتی رہی

    وہ شجر جو محبت کی پہچان تھے کٹ کے بہتے رہے

    میں پرندوں کو پانی پلاتا رہا برف گرتی رہی

    میرے ساتھی پرندے مہاجر ہوئے دیکھ لو پھر بھی میں

    راستے جنگلوں میں بناتا رہا برف گرتی رہی

    وہ پہاڑوں کی مٹی جو زرخیز تھی میرے گھر آ گئی

    اور پانی گھروں کو گراتا رہا برف گرتی رہی

    کوئی منزل کی جانب رواں تھا مگر کوئی منزل نہ تھی

    کوئی رستے میں آنسو بہاتا رہا برف گرتی رہی

    ایک حسرت تھی جو سرد لہجوں تلے دب گئی تھی مگر

    میں زمانے کو قصے سناتا رہا برف گرتی رہی

    میری آواز تھی شور دریا کا تھا میرے مرنے پہ بھی

    لوگ ہنستے رہے میں بلاتا رہا برف گرتی رہی

    دیکھ اظہرؔ چلے خشک دریاؤں کو میرے خانہ بدوش

    اک دیا رات بھر ٹمٹماتا رہا برف گرتی رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے