نگاہوں میں سرابوں کے سوا منظر نہیں آتا
نگاہوں میں سرابوں کے سوا منظر نہیں آتا
بھٹکتا پھر رہا ہوں میں کوئی رہبر نہیں آتا
ہماری شان استغنا پہ کتنا دنگ ہے وہ بھی
ہماری تمکنت کے روبرو قیصر نہیں آتا
مرے آنگن میں یادیں تو چلی آتی ہیں راتوں کو
مگر ملنے کبھی وہ بے وفا دلبر نہیں آتا
تماشائی بنے بیٹھے ہیں اہل شہر سب کے سب
بچانے کے لیے مظلوم کو لشکر نہیں آتا
ہزاروں سال سے جاری ہے گردش ان ستاروں کی
سمجھ میں گردش ایام کا محور نہیں آتا
سبھی المیرؔ اس دنیا میں ہیں اپنی غرض والے
کوئی بھی بے غرض الفت کا اب خوگر نہیں آتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.