Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لڑتا رہا جو اپنے ہی اندر کے خوف سے

انصار ایٹوی

لڑتا رہا جو اپنے ہی اندر کے خوف سے

انصار ایٹوی

MORE BYانصار ایٹوی

    لڑتا رہا جو اپنے ہی اندر کے خوف سے

    وہ کیا ڈرے گا سوچو بونڈر کے خوف سے

    موجوں سے لڑ جھگڑ کے میں ساحل پہ آ گیا

    لیکن ڈرا نہیں میں سمندر کے خوف سے

    ابن علی نے دنیا کو پیغام یہ دیا

    پیچھے کبھی نہ ہٹنا ستمگر کے خوف سے

    مشکل ہزار سامنے آتی ہیں کام میں

    کیا بچے چلنا چھوڑ دیں ٹھوکر کے خوف سے

    لیلیٰ کی چاہ نے اسے دیوانہ کر دیا

    مجنوں کبھی ڈرا نہیں پتھر کے خوف سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے