لڑتا رہا جو اپنے ہی اندر کے خوف سے
لڑتا رہا جو اپنے ہی اندر کے خوف سے
وہ کیا ڈرے گا سوچو بونڈر کے خوف سے
موجوں سے لڑ جھگڑ کے میں ساحل پہ آ گیا
لیکن ڈرا نہیں میں سمندر کے خوف سے
ابن علی نے دنیا کو پیغام یہ دیا
پیچھے کبھی نہ ہٹنا ستمگر کے خوف سے
مشکل ہزار سامنے آتی ہیں کام میں
کیا بچے چلنا چھوڑ دیں ٹھوکر کے خوف سے
لیلیٰ کی چاہ نے اسے دیوانہ کر دیا
مجنوں کبھی ڈرا نہیں پتھر کے خوف سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.