اس سے پہلے کوئی آ کر کے بچا لے مجھ کو
اس سے پہلے کوئی آ کر کے بچا لے مجھ کو
ہجر اس کا ہی کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو
اب تو ساحل پہ پہنچ کر ہی میں کچھ دم لوں گا
اس سے پہلے یہ سمندر جو اچھالے مجھ کو
جس طرح شہد کو مکھی نے چھپایا اکثر
اس طرح ماں تو بھی آنچل میں چھپا لے مجھ کو
یہ غرض میری تھی منزل پہ رکا ہوں آ کر
درد دیتے ہی رہے پاؤں کے چھالے مجھ کو
چاند سے جب بھی مری بات بگڑ جائے گی
مل کے جگنو ہی سبھی دیں گے اجالے مجھ کو
اس لیے بھی اسے جاگیر سمجھتا ہوں میں
مر کے ہونا ہی ہے مٹی کے حوالے مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.