برف کے لوگ ناؤ پتھر کی
برف کے لوگ ناؤ پتھر کی
اور مسافت ہے اک سمندر کی
میں ہی کروٹ بدلنے لگتا ہوں
آنکھ لگتی ہے جوں ہی بستر کی
اٹھ رہی ہیں وہیں پہ دیواریں
تھی ضرورت جہاں جہاں در کی
حیف صد حیف میرے شیشہ بدن
تجھ کو دیکھے گی آنکھ پتھر کی
اور بھی کچھ بگڑ گیا ہے جہاں
ہم نے کوشش تو کی تھی بہتر کی
کون محشر کا انتظار کرے
بات ہے لمحۂ میسر کی
تم مرے دوستوں کو لے آتے
چوٹ ہوتی کوئی برابر کی
کیوں سناتے ہو اس طرح کی خبر
کیوں اڑاتے ہو آپ بے پر کی
اب بھی اس کا بدن سنہرا ہے
جبکہ بارش بھی تھم چکی زر کی
آپ تو اس طرف سے آئے ہیں
کچھ سنائیں ہمارے مخبر کی
کس روانی میں کہہ رہا ہوں غزل
کیا سہولت ہے مصرع تر کی
اب اسے ڈھونڈنے کہاں جاؤں
یہ تو کنجی ہے آٹھویں در کی
گھر میں آرام کرنے آئے ہو
گھر میں باتیں کرو نہ دفتر کی
کوئی بچھڑے تو یاد آتی ہے
رات انیس سو اکہتر کی
خوف دل سے نکال کر بھی ظہیرؔ
کوئی کھڑکی کھلی رہی ڈر کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.