Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

برف کے لوگ ناؤ پتھر کی

ثناء اللہ ظہیر

برف کے لوگ ناؤ پتھر کی

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    برف کے لوگ ناؤ پتھر کی

    اور مسافت ہے اک سمندر کی

    میں ہی کروٹ بدلنے لگتا ہوں

    آنکھ لگتی ہے جوں ہی بستر کی

    اٹھ رہی ہیں وہیں پہ دیواریں

    تھی ضرورت جہاں جہاں در کی

    حیف صد حیف میرے شیشہ بدن

    تجھ کو دیکھے گی آنکھ پتھر کی

    اور بھی کچھ بگڑ گیا ہے جہاں

    ہم نے کوشش تو کی تھی بہتر کی

    کون محشر کا انتظار کرے

    بات ہے لمحۂ میسر کی

    تم مرے دوستوں کو لے آتے

    چوٹ ہوتی کوئی برابر کی

    کیوں سناتے ہو اس طرح کی خبر

    کیوں اڑاتے ہو آپ بے پر کی

    اب بھی اس کا بدن سنہرا ہے

    جبکہ بارش بھی تھم چکی زر کی

    آپ تو اس طرف سے آئے ہیں

    کچھ سنائیں ہمارے مخبر کی

    کس روانی میں کہہ رہا ہوں غزل

    کیا سہولت ہے مصرع تر کی

    اب اسے ڈھونڈنے کہاں جاؤں

    یہ تو کنجی ہے آٹھویں در کی

    گھر میں آرام کرنے آئے ہو

    گھر میں باتیں کرو نہ دفتر کی

    کوئی بچھڑے تو یاد آتی ہے

    رات انیس سو اکہتر کی

    خوف دل سے نکال کر بھی ظہیرؔ

    کوئی کھڑکی کھلی رہی ڈر کی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے