عمر گزری ہے بچ بچاؤ میں
عمر گزری ہے بچ بچاؤ میں
اس کا مطلب سبھی دباؤ میں
رہنے والا نہیں کوئی گاؤں
اب کے دریائی اس کٹاؤ میں
یہ تعارف میں آپ کے شامل
آپ ماہر ہیں مک مکاؤ میں
خیر اس کی نہیں ارے دنیا
آ گیا جو بھی تیرے داؤ میں
دال میں کچھ تو کالا لگتا ہے
اس قدر اس کے اس جھکاؤ میں
سوچنا اس پہ بیٹھ کے تنہا
کہہ گئے کیا سے کیا بہاؤ میں
کیا ملا ہے بخاریؔ جی تم کو
جھونک کے خود کو یوں الاؤ میں
ایک اپنا سا لطف رکھتے ہیں
شعر عاصمؔ ترے رچاؤ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.