میں جھوٹا ہوں مجھ سے ہی ہر جرم ہوا ہے
میں جھوٹا ہوں مجھ سے ہی ہر جرم ہوا ہے
تو سچا ہے تو جو چاہے کہہ سکتا ہے
گاؤں کے چوپالوں میں سہمے سہمے چہرے
شہر کے بازاروں میں کیسا ہنگامہ ہے
پنچھی ہر سو چیخم دہاڑ مچاتے ابھرے
فائر کی آواز سے جنگل جاگ اٹھا ہے
میں تو صدیوں کی محنت سے ہانپ رہا ہوں
تو کیوں چپ ہے تیرا چہرہ کیوں اترا ہے
ہم بھی ایک زمانے میں بدنام تھے لیکن
چھوڑو یارو ان باتوں سے کیا ہوتا ہے
لوگ زمیں پر جو جی چاہے کرتے جائیں
اللہ اوپر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا ہے
شب سوئیں تو کاش قیامت آ ہی جائے
مجھ پہ خدا کی مار یہ میں نے کیا سوچا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.