Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا

خوشبو پروین

آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا

خوشبو پروین

MORE BYخوشبو پروین

    آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا

    نقد جہیز لیا تھا لیکن مہر ادھاری رکھا

    آوازوں سے ڈرتی تو گونگی بہری ہو جاتی

    سوچ سمجھ کر ہی میں نے لہجہ دو دھاری رکھا

    میری چیخ کے چاروں جانب قہقہے گونج اٹھے تھے

    تب میں نے سینے پر صبر کا پتھر بھاری رکھا

    میں نے تو دنیا پائی ہے بند کتابوں والی

    چلتے پھرتے لوگوں نے خود کو اخباری رکھا

    آنسو پونچھتی ہی رہتی ہیں تھوڑی تھوڑی خوشیاں

    پر آنکھوں کے رستے غم نے چشمہ جاری رکھا

    حلیہ بدل کر ڈھونگ رچانا آتا نہیں خوشبوؔ کو

    اللہ والی ہو کر بھی خود کو سنساری رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے