آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا
آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا
نقد جہیز لیا تھا لیکن مہر ادھاری رکھا
آوازوں سے ڈرتی تو گونگی بہری ہو جاتی
سوچ سمجھ کر ہی میں نے لہجہ دو دھاری رکھا
میری چیخ کے چاروں جانب قہقہے گونج اٹھے تھے
تب میں نے سینے پر صبر کا پتھر بھاری رکھا
میں نے تو دنیا پائی ہے بند کتابوں والی
چلتے پھرتے لوگوں نے خود کو اخباری رکھا
آنسو پونچھتی ہی رہتی ہیں تھوڑی تھوڑی خوشیاں
پر آنکھوں کے رستے غم نے چشمہ جاری رکھا
حلیہ بدل کر ڈھونگ رچانا آتا نہیں خوشبوؔ کو
اللہ والی ہو کر بھی خود کو سنساری رکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.