شاخ سے ٹوٹتے پتے کی صدا ہوں میں بھی
شاخ سے ٹوٹتے پتے کی صدا ہوں میں بھی
کوئی سمجھا ہی نہیں کون ہوں کیا ہوں میں بھی
اجنبی شہر بھی دیوانہ بنا دیتا ہے
تیری گلیوں کا پتہ بھول گیا ہوں میں بھی
ہر طرف تیری تمنا نے بکھیرا مجھ کو
کہیں صحرا کہیں گلزار بنا ہوں میں بھی
میری خوابیدہ نگاہی کے اشارے سمجھو
ہاں تمہاری ہی طرح رات جگا ہوں میں بھی
دشت ظلمت میں یہ کہرام اچانک تو نہیں
زد پہ طوفاں کی بہت دیر جلا ہوں میں بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.