سامنے میرے مسیحائی کا پھر دعویٰ کیا
سامنے میرے مسیحائی کا پھر دعویٰ کیا
کب مریض عشق کو تم نے کبھی اچھا کیا
جوش وحشت بڑھ گیا رخ جانب صحرا کیا
فصل گل نے زخم دل کو اور بھی تازہ کیا
کیا ہوا میں نے محبت کا اگر دعویٰ کیا
آپ نے ناحق رقیبوں سے مرا شکوہ کیا
وائے ناکامی نہ کوئی مدعا پورا ہوا
نامہ بر برسوں وہاں آیا کیا جایا کیا
ہجر کی شب بے کلی سے دل کا یہ عالم رہا
خود تڑپتا رہ گیا مجھ کو بھی تڑپایا کیا
مے کشی کو جب سوئے گلشن چلے ہم مے پرست
سر پہ آ کر ابر رحمت نے وہیں سایا کیا
چل گئیں قاتل پہ بھی چھریاں نگاہ یاس کی
میں ادھر تڑپا کیا ظالم ادھر تڑپا کیا
دم بہ دم گھبرا کے وہ گھر سے نکل آتے ہیں کیوں
کیا مرے نالوں نے پھر باب اثر کو وا کیا
آ گیا راہ مجازی سے حقیقی کی طرف
بیٹھ کر بت خانے میں نور خدا دیکھا کیا
دیکھنا پچھتاؤ گے بسملؔ بہت تم ایک دن
دل بت ناآشنا کو دے دیا بے جا کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.