میرا جیون تو تھا بے آب سرابوں جیسا
میرا جیون تو تھا بے آب سرابوں جیسا
تیری چاہت نے کیا اس کو چنابوں جیسا
تیری فرقت میں مرے دل کی عجب حالت ہے
موسم گل بھی لگے مجھ کو عذابوں جیسا
کشتۂ غم سے ملاقات کا وعدہ تیرا
درد کی دھوپ میں صحرا ہے سحابوں جیسا
ساغر مے میں فقط قید نہیں ہے مستی
کچھ اناؤں میں بھی نشہ ہے شرابوں جیسا
میرے احساس میں خوشبو سی رچی ہے جذبیؔ
کوئی مہکا ہے تصور میں گلابوں جیسا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.