Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے دھوئیں کو خواب سمجھنے کی بھول کی

اظہرالدین اظہر

میں نے دھوئیں کو خواب سمجھنے کی بھول کی

اظہرالدین اظہر

MORE BYاظہرالدین اظہر

    میں نے دھوئیں کو خواب سمجھنے کی بھول کی

    صحرا میں اک سراب سمجھنے کی بھول کی

    چہرے پہ پتلی اوڑھنی ڈالے کھڑی تھی وہ

    پر میں نے بے حجاب سمجھنے کی بھول کی

    افسوس میں بھی بھیڑ کا حصہ بنا رہا

    فتنے کو انقلاب سمجھنے کی بھول کی

    جو گھر میں رک سکا نہ اسے دل میں رکھ لیا

    ذرے کو آفتاب سمجھنے کی بھول کی

    مخفی عبارتوں کا وہ عمدہ لفافہ تھا

    ہم نے اسے کتاب سمجھنے کی بھول کی

    اظہرؔ تمہیں خبر ہے کہ گلشن کے خار کو

    چمپا کنول گلاب سمجھنے کی بھول کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے