میں نے دھوئیں کو خواب سمجھنے کی بھول کی
میں نے دھوئیں کو خواب سمجھنے کی بھول کی
صحرا میں اک سراب سمجھنے کی بھول کی
چہرے پہ پتلی اوڑھنی ڈالے کھڑی تھی وہ
پر میں نے بے حجاب سمجھنے کی بھول کی
افسوس میں بھی بھیڑ کا حصہ بنا رہا
فتنے کو انقلاب سمجھنے کی بھول کی
جو گھر میں رک سکا نہ اسے دل میں رکھ لیا
ذرے کو آفتاب سمجھنے کی بھول کی
مخفی عبارتوں کا وہ عمدہ لفافہ تھا
ہم نے اسے کتاب سمجھنے کی بھول کی
اظہرؔ تمہیں خبر ہے کہ گلشن کے خار کو
چمپا کنول گلاب سمجھنے کی بھول کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.