کیا پھر کوئی امید کا در لگنے لگا کیا
کیا پھر کوئی امید کا در لگنے لگا کیا
مٹی کا یہ تودہ مجھے گھر لگنے لگا کیا
اک عمر کی پیاس آج مری جاگ اٹھی ہے
صحرا کا بگولا مجھے تر لگنے لگا کیا
پھر کیوں مری پرواز پہ پہرے ہیں زمانے
ٹوٹی ہوئی شاخوں پہ ثمر لگنے لگا کیا
جس آگ نے جھلسا تھا کبھی میرا نشیمن
وہ نور تجلی کا اثر لگنے لگا کیا
اب دیدۂ نم ناک کے شعلے سے ہیں لڑتے
پانی کا یہ قطرہ بھی شرر لگنے لگا کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.