کھائی ہے جانے کون سی اس نار نے جڑی
کھائی ہے جانے کون سی اس نار نے جڑی
چپ ہو تو برگ گل ہے جو بولے تو پھلجھڑی
وہ نار جس کو دیپ کی لو سے مثال دیں
شاخ شعاع مہر سے ترشی ہوئی چھڑی
اب چاند کی ردا سے بھی جلتا ہے جسم زار
زنداں سے چھوٹ کر بھی سزا کاٹنی پڑی
بیٹھے ہیں تیرے غم میں گل تر بنے ہوئے
سینے میں آگ آنکھ میں برسات کی جھڑی
صحرا سا دن پہاڑ سی شب کیسے کاٹ لیں
صدیوں کا بوجھ ہے تری فرقت کی اک گھڑی
کشتی کا بادبان مرا پیرہن بنا
اک گوہر صدف کو زمیں چاٹنی پڑی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.