کہنے کو ہے مدت سے تماشائی ہماری
کہنے کو ہے مدت سے تماشائی ہماری
دنیا نے کہاں دیکھی ہے لیلائی ہماری
آنکھوں سے تری یاد کا بہتا ہے لہو روز
ممکن ہے کہ اب جائے گی بینائی ہماری
اب آپ سے تو ہم کو توقع ہی نہیں تھی
اب آپ سے ہوتی ہے پذیرائی ہماری
جب تیری محبت کے قصیدے نہیں ہوں گے
کس کام کی پھر ہوگی یہ گویائی ہماری
اس دشت میں تو خود کی ہمیں فکر نہیں ہے
اب کام نہیں آئے گی دانائی ہماری
یہ آپ کا دربار ہے منصف بھی یہاں آپ
ہو ہی نہیں سکتی یہاں شنوائی ہماری
صحرا کا ہے کردار بڑا عشق میں روبیؔ
کیوں لاش وہاں پر نہیں دفنائی ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.