Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہنے کو ہے مدت سے تماشائی ہماری

روبینہ ایاز

کہنے کو ہے مدت سے تماشائی ہماری

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    کہنے کو ہے مدت سے تماشائی ہماری

    دنیا نے کہاں دیکھی ہے لیلائی ہماری

    آنکھوں سے تری یاد کا بہتا ہے لہو روز

    ممکن ہے کہ اب جائے گی بینائی ہماری

    اب آپ سے تو ہم کو توقع ہی نہیں تھی

    اب آپ سے ہوتی ہے پذیرائی ہماری

    جب تیری محبت کے قصیدے نہیں ہوں گے

    کس کام کی پھر ہوگی یہ گویائی ہماری

    اس دشت میں تو خود کی ہمیں فکر نہیں ہے

    اب کام نہیں آئے گی دانائی ہماری

    یہ آپ کا دربار ہے منصف بھی یہاں آپ

    ہو ہی نہیں سکتی یہاں شنوائی ہماری

    صحرا کا ہے کردار بڑا عشق میں روبیؔ

    کیوں لاش وہاں پر نہیں دفنائی ہماری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے