حسرت بھری سحر سے اذیت کی شام سے
حسرت بھری سحر سے اذیت کی شام سے
یا رب مجھے نکال دے ہر خواب خام سے
پرواز کر رہے ہیں پرائے پروں سے آپ
لازم ہے گر پڑیں گے زمیں پر دھڑام سے
میں مر رہا ہوں ظرف کا سودا کیے بغیر
میت اٹھانا میری ذرا دھوم دھام سے
اتنے دنوں کے بعد اچانک سے میری یاد
ممکن ہے آپ آئے ہیں اپنے ہی کام سے
ہر شخص جان لیوا مرض سے نہیں مرا
کچھ لوگ مر گئے ہیں دواؤں کے دام سے
کاشفؔ سوائے دل کے ترے پاس کچھ نہیں
کیوں لے گا تیرا نام کوئی احترام سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.