Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حسرت بھری سحر سے اذیت کی شام سے

کاشف بیگ کاشف

حسرت بھری سحر سے اذیت کی شام سے

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    حسرت بھری سحر سے اذیت کی شام سے

    یا رب مجھے نکال دے ہر خواب خام سے

    پرواز کر رہے ہیں پرائے پروں سے آپ

    لازم ہے گر پڑیں گے زمیں پر دھڑام سے

    میں مر رہا ہوں ظرف کا سودا کیے بغیر

    میت اٹھانا میری ذرا دھوم دھام سے

    اتنے دنوں کے بعد اچانک سے میری یاد

    ممکن ہے آپ آئے ہیں اپنے ہی کام سے

    ہر شخص جان لیوا مرض سے نہیں مرا

    کچھ لوگ مر گئے ہیں دواؤں کے دام سے

    کاشفؔ سوائے دل کے ترے پاس کچھ نہیں

    کیوں لے گا تیرا نام کوئی احترام سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے