بادل وہ انقلاب کا برسا ہے میرے بعد
بادل وہ انقلاب کا برسا ہے میرے بعد
صحرا سبھی کے خواب میں دریا ہے میرے بعد
دائم یہ میری فتح کا اعلان ہی تو ہے
نسل عدو کو میرا ہی دھڑکا ہے میرے بعد
نکلی سپردگی کے کنویں سے کوئی سرنگ
بھٹکے ہوؤں نے راستہ پایا ہے میرے بعد
ہر طاق پر دیا نہیں جلتا او اجنبی
خود کو سنبھالنا کہ اندھیرا ہے میرے بعد
میں تھا جو اس بہار کے رستے کا خار تھا
نتھلی کا پھول اب تو ستارہ ہے میرے بعد
وو کیا اٹھا سکے گا ترے آبلوں کا وزن
صحرا تو اپنی خاک اڑاتا ہے میرے بعد
اے عونؔ میرے پریم کی مالا تھی جس کے نام
موتی وفا کے ڈھونڈتا پھرتا ہے میرے بعد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.