جو حوصلوں سے سمندر کھنگال ڈالے گا
جو حوصلوں سے سمندر کھنگال ڈالے گا
یقیں ہے گوہر مقصد ضرور پا لے گا
اندھیرا بخشا ہے جس نے ہماری ہستی کو
ہمارے خانۂ دل کو وہی اجالے گا
غرور و فخر سے جو سر اٹھا کے چلتا ہے
کبھی وہ فرط ندامت سے منہ چھپا لے گا
وہ جس سے رشتہ سر راہ تم نے توڑ لیا
کسی کو وہ بھی شریک سفر بنا لے گا
سفر میں عزم جواں ہے تو بالیقیں اک دن
بھٹکنے والا بھی منزل ضرور پا لے گا
وہ جس کو یاد ہے مہر و وفا خلوص کا فن
وہ شخص دل میں سبھی کے جگہ بنا لے گا
جو مسئلوں میں گھرا ہوں تو اس کا غم کیوں ہو
خدا خدا ہے کوئی راستہ نکالے گا
وہ مال کا ہی نہیں دل کا ہے غنی کاوشؔ
کسی فقیر کو در سے نہ اپنے ٹالے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.