در بہ در پھر رہا ہوں جانے کیوں
در بہ در پھر رہا ہوں جانے کیوں
دل شکستہ ہوا ہوں جانے کیوں
کل مری ذات اک سمندر تھی
آج قطرہ نما ہوں جانے کیوں
میری منزل ہے مجھ میں پوشیدہ
پھر بھی چلتا رہا ہوں جانے کیوں
میں سنوارا ہوا ہوں پہلے سے
آئنہ دیکھتا ہوں جانے کیوں
تیرگی مسئلہ نہیں میرا
پھر بھی اخترؔ رہا ہوں جانے کیوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.