آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے
آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے
خواب وہ دیکھے تھے ہم نے کہ کہیں کے نہ رہے
نشۂ شوق سفر ٹوٹا تو احساس ہوا
جس جگہ کا ہمیں ہونا تھا وہیں کے نہ رہے
زندگی تجھ سے محبت تو ہے اب بھی لیکن
تیرے بارے میں کئی رنگ یقیں کے نہ رہے
ہم سے روشن ہوا کرتی تھی کبھی وادئ گل
اب تو یہ ہے کہ کسی ماہ جبیں کے نہ رہے
آشناؔ زینت بازار ہیں اب سینکڑوں چاند
خواب آنکھوں میں کسی پردہ نشیں کے نہ رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.