Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے

مجاز آشنا

آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے

مجاز آشنا

MORE BYمجاز آشنا

    آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے

    خواب وہ دیکھے تھے ہم نے کہ کہیں کے نہ رہے

    نشۂ شوق سفر ٹوٹا تو احساس ہوا

    جس جگہ کا ہمیں ہونا تھا وہیں کے نہ رہے

    زندگی تجھ سے محبت تو ہے اب بھی لیکن

    تیرے بارے میں کئی رنگ یقیں کے نہ رہے

    ہم سے روشن ہوا کرتی تھی کبھی وادئ گل

    اب تو یہ ہے کہ کسی ماہ جبیں کے نہ رہے

    آشناؔ زینت بازار ہیں اب سینکڑوں چاند

    خواب آنکھوں میں کسی پردہ نشیں کے نہ رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے