یہاں سے کوچ کیا جائے یا جیا جائے
یہاں سے کوچ کیا جائے یا جیا جائے
تمہارے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے
میں نفرتوں سے لڑائی میں خرچ ہو گیا ہوں
سو میرا نام محبت سے اب لیا جائے
تمہارے بن یہ پرندے اداس رہتے ہیں
یہ جا کے اس سے کسی روز کہہ دیا جائے
مرے لیے یہ اثاثہ ہیں زندگی بھر کا
جو زخم اس نے دیے ان کو مت سیا جائے
اگر ہے جام تو پینے میں کیا برائی ہے
اگر ہے زہر تو پھر اس کو کھا لیا جائے
یہ روح جسم میں کافی پھڑکنے لگ گئی ہے
تو کیوں نہ اس کو اب آزاد کر دیا جائے
مزید ہم سے ترا ہجر سہنا ہوتا نہیں
یہ گھونٹ صبر کا کب تک بھلا پیا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.