اس پہ جب جب مری نظر جائے
اس پہ جب جب مری نظر جائے
شرم سے اور وہ نکھر جائے
پھر مری زندگی سنور جائے
وہ جو اس روح میں اتر جائے
اس غزل سے ہے اس قدر الفت
دل نہ اس کو پڑھے تو مر جائے
جس کو اپنوں نے مل کے لوٹ لیا
آدمی وہ بھلا کدھر جائے
ریزہ ریزہ میں ہو گیا جیسے
آئنہ ٹوٹ کر بکھر جائے
جھوٹ کے لوگ یوں ہیں دیوانے
سچ میں بولوں تو میرا سر جائے
تم یہ آنکھیں سنبھال کر رکھنا
ڈوب کر پھر نہ کوئی مر جائے
کتنے پتھر پڑے ہیں رستے میں
جو بھی جائے وہ دیکھ کر جائے
تم مرے صبر سے نہیں واقف
وار اس کا نہ بے اثر جائے
حوصلے میرے لوٹ آئے ہیں
غم سے کہہ دو وہ اپنے گھر جائے
تم خفا ہو تو ایسا لگتا ہے
جسم سے جان کوچ کر جائے
اس قدر ان کی بے رخی امجدؔ
زندگی زندگی سے ڈر جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.