مقام شکر ہے اے دل شب کرب و بلا گزری
مقام شکر ہے اے دل شب کرب و بلا گزری
شکایت کیا گلہ کیسا اگر آہستہ پا گزری
جب آئی تھی جفا کی بجلیاں بھی ساتھ لائی تھی
مگر سینے میں روشن کر کے قندیل وفا گزری
خدا ہی جانتا ہے کس طرح ہم نے گزاری تھی
وہ لمبی اور کالی رات جو تم سے جدا گزری
عدو کے جور سے جو کچھ بھی بیتی تھی سو بیتی تھی
مگر جو دوست کے ہاتھوں سر اہل ولا گزری
صبا آئی ہو اتر سے کہو کچھ خلد ارضی کی
جنوں کی کیا سزا ٹھہری گل و لالہ پہ کیا گزری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.