گل نہ ہوں خار مغیلاں ہی سہی
گل نہ ہوں خار مغیلاں ہی سہی
کچھ تو ہو چشمک پنہاں ہی سہی
ان کے دامن کی تمنا کب تک
آؤ اب اپنا گریباں ہی سہی
کچھ تو ہو دل کی رفاقت کے لیے
اضطراب شب ہجراں ہی سہی
میرے ایماں سے کسی کو مطلب
خیر وہ دشمن ایماں ہی سہی
دل کی فطرت ہے شرر اندوزی
زندگی شعلہ بداماں ہی سہی
پھر بھی کچھ سعیٔ عمل اچھی ہے
آپ پر رحمت یزداں ہی سہی
تاب شکوہ جو نہیں ہے ان سے
شکوۂ گردش دوراں ہی سہی
چاہیے اس کے لیے بھی توفیق
بت گری فطرت انساں ہی سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.