دل عاشق میں سوزش کم نہیں ہے
دل عاشق میں سوزش کم نہیں ہے
اسے پانے کی خواہش کم نہیں ہے
مری ہر سانس ہے ممنون تیری
کرم کی تیری بارش کم نہیں ہے
رہیں کیسے گھڑی بھر چین سے ہم
جہاں والوں کی سازش کم نہیں ہے
کہاں تک کامراں ہوتے رہیں ہم
فلک کی آزمائش کم نہیں ہے
اذیت طنزیہ جملے تمسخر
عزیزوں کی نوازش کم نہیں ہے
رہے لڑتا کہاں تک شمسؔ تنہا
کہ دل پہ اب کے یورش کم نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.