بھٹکا دیا تھا رونق فصل بہار نے
بھٹکا دیا تھا رونق فصل بہار نے
منزل دکھائی مجھ کو رہ خار دار نے
احسان یوں کیا مرے پروردگار نے
آیا ہوں کوہ طور پہ اس کو پکارنے
سر پہ تھا بار زندگی رستے طویل تھے
گرنے نہیں دیا ہے مرے غم گسار نے
میرے مزاج تلخ میں شیرینی گھول کر
بھونرا بنا دیا ہے مجھے گل کے پیار نے
آئی خزاں تو ذہن پہ چھائی اداسیاں
زینت چمن کی چھین لی فکر بہار نے
امید صبر رنج و غم زندگی کے ساتھ
جینا سکھا دیا ہے ترے انتظار نے
اخترؔ مرا وجود تو اک مشت خاک تھا
اشرف بنا دیا ہے مجھے لفظ پیار نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.