ایسا نہیں کہ بزم میں پیاسا نہیں ہوں میں
ایسا نہیں کہ بزم میں پیاسا نہیں ہوں میں
پر تو جو پی رہا ہے وہ پیتا نہیں ہوں میں
اے یار تیری چاہ ترا غم ترا خیال
مدت ہوئی ہے چین سے سویا نہیں ہوں میں
حاضر تو ہو گیا ہوں تری بزم میں مگر
محسوس ہو رہا ہے کہ گویا نہیں ہوں میں
یارب تری تلاش میں لوگوں کے ساتھ ساتھ
صحرائے لا حدود میں بھٹکا نہیں ہوں میں
رہ رہ کے یوں خطاؤں پہ ٹوکا نہ کیجئے
انسان ہوں حضور فرشتہ نہیں ہوں میں
اخترؔ ترے جمال سے واقف تو ہوں مگر
تعریف تیرے حسن کی کرتا نہیں ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.