کیا ہے عشق تو رسوائیوں کا ڈر کیسا
کیا ہے عشق تو رسوائیوں کا ڈر کیسا
کہ جس میں سوز نہ ہو وہ بھلا جگر کیسا
وہ عشق عشق نہیں جس میں ہو غرض کوئی
دلوں کا سودا ہوا ہو تو مال و زر کیسا
نشان منزل مقصود تک دکھا نہ سکے
تو پھر بتائے کوئی ہے وہ راہبر کیسا
مرا بھی خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
خلاف میرے اٹھاتے ہو تم یہ شر کیسا
دوبارہ کوئی بھی ہجرت تو اب نہیں ہوگی
یہیں پہ رہنا ہمیں ہے تو پھر سفر کیسا
یہ ہم نے مانا کہ اس میں بہت سے جوہر ہیں
کسی کے کام نہ آئے تو وہ ہنر کیسا
جہاں سے آئے تھے جانا تو ہے وہیں اک دن
تو آئے موت کبھی اس سے ہم کو ڈر کیسا
ڈرے نہیں ہیں کبھی آندھیوں کے خوف سے ہم
نہ حوصلہ ہو تو پھر دشت کا سفر کیسا
اسے گماں ہے کہ ارشادؔ ناتواں ہیں ہم
خبر نہیں اسے رکھتے ہیں ہم جگر کیسا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.