Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیا ہے عشق تو رسوائیوں کا ڈر کیسا

ارشاد دہلوی

کیا ہے عشق تو رسوائیوں کا ڈر کیسا

ارشاد دہلوی

MORE BYارشاد دہلوی

    کیا ہے عشق تو رسوائیوں کا ڈر کیسا

    کہ جس میں سوز نہ ہو وہ بھلا جگر کیسا

    وہ عشق عشق نہیں جس میں ہو غرض کوئی

    دلوں کا سودا ہوا ہو تو مال و زر کیسا

    نشان منزل مقصود تک دکھا نہ سکے

    تو پھر بتائے کوئی ہے وہ راہبر کیسا

    مرا بھی خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

    خلاف میرے اٹھاتے ہو تم یہ شر کیسا

    دوبارہ کوئی بھی ہجرت تو اب نہیں ہوگی

    یہیں پہ رہنا ہمیں ہے تو پھر سفر کیسا

    یہ ہم نے مانا کہ اس میں بہت سے جوہر ہیں

    کسی کے کام نہ آئے تو وہ ہنر کیسا

    جہاں سے آئے تھے جانا تو ہے وہیں اک دن

    تو آئے موت کبھی اس سے ہم کو ڈر کیسا

    ڈرے نہیں ہیں کبھی آندھیوں کے خوف سے ہم

    نہ حوصلہ ہو تو پھر دشت کا سفر کیسا

    اسے گماں ہے کہ ارشادؔ ناتواں ہیں ہم

    خبر نہیں اسے رکھتے ہیں ہم جگر کیسا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے