دیکھ یوں میری طرف جیسے شناسائی نہ ہو
دیکھ یوں میری طرف جیسے شناسائی نہ ہو
میں تو رسوا ہوں کہیں تیری بھی رسوائی نہ ہو
غم نہیں تو عکس بن کر تجھ سے وابستہ رہوں
دل ترا پتھر سہی لیکن نظر آئینہ ہو
پائے گا دانشوروں میں تو بہت اونچا مقام
جو بھی چاہے جرم کر اک جرم دانائی نہ ہو
فطرت آزاد کے پیروں میں زنجیریں نہ ڈال
پیار کر پھولوں سے خوشبو کا تمنائی نہ ہو
دور تک کانٹوں بھرے رستے فروزاں ہو گئے
زندگی کیونکر رہین آبلہ پائی نہ ہو
گونج اٹھتی ہیں فضائیں کیوں مری آواز پر
کوئی ہنگامہ پس دیوار تنہائی نہ ہو
فطرتاً ہر حادثے پر مسکرا دیتا ہوں میں
سوچتا ہوں اور میری قدر افزائی نہ ہو
ڈوب کر میں آپ ہی رہ جاؤں اپنی ذات میں
اس قدر بھی اے مظفرؔ مجھ میں گہرائی نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.