Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیکھ یوں میری طرف جیسے شناسائی نہ ہو

مظفر وارثی

دیکھ یوں میری طرف جیسے شناسائی نہ ہو

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    دیکھ یوں میری طرف جیسے شناسائی نہ ہو

    میں تو رسوا ہوں کہیں تیری بھی رسوائی نہ ہو

    غم نہیں تو عکس بن کر تجھ سے وابستہ رہوں

    دل ترا پتھر سہی لیکن نظر آئینہ ہو

    پائے گا دانشوروں میں تو بہت اونچا مقام

    جو بھی چاہے جرم کر اک جرم دانائی نہ ہو

    فطرت آزاد کے پیروں میں زنجیریں نہ ڈال

    پیار کر پھولوں سے خوشبو کا تمنائی نہ ہو

    دور تک کانٹوں بھرے رستے فروزاں ہو گئے

    زندگی کیونکر رہین آبلہ پائی نہ ہو

    گونج اٹھتی ہیں فضائیں کیوں مری آواز پر

    کوئی ہنگامہ پس دیوار تنہائی نہ ہو

    فطرتاً ہر حادثے پر مسکرا دیتا ہوں میں

    سوچتا ہوں اور میری قدر افزائی نہ ہو

    ڈوب کر میں آپ ہی رہ جاؤں اپنی ذات میں

    اس قدر بھی اے مظفرؔ مجھ میں گہرائی نہ ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے