اپنا دکھڑا سنا کے دیکھ لیا
اپنا دکھڑا سنا کے دیکھ لیا
جگ کو خود پر ہنسا کے دیکھ لیا
بن ہمارے اجاڑ تھی محفل
اس نے سب کو بلا کے دیکھ لیا
عشق کا درد کم نہیں ہوتا
ہر دوا آزما کے دیکھ لیا
زندہ درگور کس کو کہتے ہیں
گھر پہ تختی لگا کے دیکھ لیا
دل کے داغوں سے بزم روشن تھی
اس نے شمعیں بجھا کے دیکھ لیا
جس کو دعویٰ تھا راز داری کا
راز اپنا سنا کے دیکھ لیا
دشمنی ان کے دل میں کتنی تھی
دوست ان کو بنا کے دیکھ لیا
بجلیاں کتنی پست ہوتی ہیں
اک نشیمن بنا کے دیکھ لیا
کس کو کہتے ہیں جشن رسوائی
تیری محفل میں آ کے دیکھ لیا
ہم سے کتنی انہیں محبت تھی
ان کے دل میں سما کے دیکھ لیا
درد سر تو تقیؔ بہانہ تھا
تم نے سر کو دبا کے دیکھ لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.