میں کہاں اور کوئے یار کہاں
میں کہاں اور کوئے یار کہاں
وہ بلا لیں یہ اختیار کہاں
آ ہی نکلے جو میکدے میں ہم
رہ گیا پاس ننگ و عار کہاں
چشم نرگس بنا ہوا ہے دل
ڈھونڈنے جائیں تجھ کو یار کہاں
آ بھی جاؤ کہ زیست ختم ہوئی
رہ گئی تاب انتظار کہاں
میں ہوں منصور وقت ڈر کس کا
ڈھونڈتا ہوں چھپا ہے دار کہاں
تھم گئی گردش زمان و مکاں
میکدے میں ابھی بہار کہاں
جب سے یہ کاروبار ذوق ملا
رہ گیا ذوق کاروبار کہاں
کھا رہے ہیں نظام نو کی قسم
بولنے لگ گئے مزار کہاں
آج واصفؔ نے پھر غزل کہہ دی
اب نہ کہئے کہ بار بار کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.