Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا

ثناء اللہ ظہیر

وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا

    سو میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہ نہیں سکا

    اک ایک اینٹ میری اٹھا لے گئے ہیں لوگ

    در کیا گرا کہ میں بھی کھڑا رہ نہیں سکا

    اس بار پہلا تیر نہ آیا مری طرف

    یعنی میں صف میں سب سے بڑا رہ نہیں سکا

    آخر ہوا سے چھین کے مٹی نے کھا لیا

    پتہ شجر سے جو بھی جھڑا رہ نہیں سکا

    تو مجھ کو سنگ میل سمجھ کر گزر نہ جائے

    یہ سوچ کر زمیں میں گڑا رہ نہیں سکا

    میں تو چھپا ہوا تھا زمانے کی آنکھ سے

    چپ چاپ تو ہی مجھ میں پڑا رہ نہیں سکا

    اک بار اس کا چہرہ دکھایا اسے ظہیرؔ

    پھر اس کے پیرہن میں جڑا رہ نہیں سکا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے