وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا
وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا
سو میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہ نہیں سکا
اک ایک اینٹ میری اٹھا لے گئے ہیں لوگ
در کیا گرا کہ میں بھی کھڑا رہ نہیں سکا
اس بار پہلا تیر نہ آیا مری طرف
یعنی میں صف میں سب سے بڑا رہ نہیں سکا
آخر ہوا سے چھین کے مٹی نے کھا لیا
پتہ شجر سے جو بھی جھڑا رہ نہیں سکا
تو مجھ کو سنگ میل سمجھ کر گزر نہ جائے
یہ سوچ کر زمیں میں گڑا رہ نہیں سکا
میں تو چھپا ہوا تھا زمانے کی آنکھ سے
چپ چاپ تو ہی مجھ میں پڑا رہ نہیں سکا
اک بار اس کا چہرہ دکھایا اسے ظہیرؔ
پھر اس کے پیرہن میں جڑا رہ نہیں سکا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.