مری حیات میں شامل بھی ہے نہیں بھی ہے
مری حیات میں شامل بھی ہے نہیں بھی ہے
طلب ہے اس کی جو حاصل بھی ہے نہیں بھی ہے
عجب ہوں میں بھی مسلسل اسی کی فکر میں ہوں
وہ ہے کہ مجھ سے جو غافل بھی ہے نہیں بھی ہے
اسی کے نقش قدم پر تو چل رہی ہوں میں
جو اجنبی مری منزل بھی ہے نہیں بھی ہے
نظر تو آتا ہے اس تک پہنچ نہیں سکتی
وہ میرے پیار کا ساحل بھی ہے نہیں بھی ہے
تڑپ میں تیرے تعلق کا رنج ہے ہی نہیں
تو میرے پیار میں بسمل بھی ہے نہیں بھی ہے
جو خوشبوؔ چاہ کے اظہار کر نہیں سکتی
وہ لڑکی پیار میں بزدل بھی ہے نہیں بھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.