کسی دن کام اپنا یہ غم ناکام آ جائے
کسی دن کام اپنا یہ غم ناکام آ جائے
کہ میرے ہاتھ میں یہ گردش ایام آ جائے
میں بازی گر کے جیسے یوں اچھالوں عرش کے گولے
کہ جتنا کرب عالم کا ہے میرے نام آ جائے
توجہ غیر کے زخموں پہ بھی کچھ چارہ گر کی ہو
ہمارا ضبط ہی یارو کسی کے کام آ جائے
مرا انسان سے انسانیت کا تو تعلق ہے
کہ اس کے زخم بھر جائیں مجھے آرام آ جائے
اجالے تند ہوتے جا رہے ہوں جانب منزل
پلک جھپکاؤں اور آنکھوں کے آگے شام آ جائے
کبھی یوں ہو کہ سوتے وقت مجھ کو خواب نہ آئیں
مجھے بس نیند آ جائے ذرا آرام آ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.