ہر تعلق ہی کھوٹا لگتا ہے
ہر تعلق ہی کھوٹا لگتا ہے
اک وہی ہم کو اچھا لگتا ہے
جب سے دیکھے ہیں گھر امیروں کے
اپنا گھر کتنا چھوٹا لگتا ہے
پھول دیکھوں تو اس کا چہرہ ہی
ہر طرف مجھ کو ابھرا لگتا ہے
آئنہ دیکھ لوں تو اب اکثر
میرا چہرہ بھی اس کا لگتا ہے
ذکر اس کا ابھی کیا ہی تھا
لوگ کہتے ہیں اچھا لگتا ہے
نیند آتی ہے جسم کو لیکن
دل مسلسل جگا سا لگتا ہے
جا چکا ہے وہ میری دنیا سے
پر خیالوں میں ٹھہرا لگتا ہے
ہاتھ ہے اس کا ہاتھ میں میرے
تو سفر کتنا پیارا لگتا ہے
جس کو چاہا تھا ٹوٹ کر میں نے
اب وہی شخص بدلا لگتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.