کیوں بنا برق شعلہ شرر آدمی
کیوں بنا برق شعلہ شرر آدمی
غور اس پر کرے آج ہر آدمی
کل کا سورج پیام خوشی لائے گا
جی رہا ہے اس امید پر آدمی
جیتے جی الجھنوں سے رہائی کہاں
چاہتا تو ہے ان سے مفر آدمی
یہ مرض یونہی لاحق تو ہوتا نہیں
مول لیتا ہے خود درد سر آدمی
آرزو مال و زر کی عبث ہے میاں
جب ہے مثل چراغ سحر آدمی
ملک بیمار ہے قوم بیمار ہے
کہہ دو ڈھونڈے کوئی چارہ گر آدمی
دعویٔ امن و راحت ہے تم کو تو پھر
کیوں پریشان ہے آج ہر آدمی
بے ہنر لوگ ہیں منظر عام پر
اور گوشہ نشیں با ہنر آدمی
پہلے رکھتا تھا سینے میں خوف خدا
آج رکھتا ہے دنیا کا ڈر آدمی
گرد میرے سبھی با ہنر لوگ ہیں
میں ہی کاوشؔ ہوں اک بے ہنر آدمی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.