Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیوں بنا برق شعلہ شرر آدمی

کاوش کمال

کیوں بنا برق شعلہ شرر آدمی

کاوش کمال

MORE BYکاوش کمال

    کیوں بنا برق شعلہ شرر آدمی

    غور اس پر کرے آج ہر آدمی

    کل کا سورج پیام خوشی لائے گا

    جی رہا ہے اس امید پر آدمی

    جیتے جی الجھنوں سے رہائی کہاں

    چاہتا تو ہے ان سے مفر آدمی

    یہ مرض یونہی لاحق تو ہوتا نہیں

    مول لیتا ہے خود درد سر آدمی

    آرزو مال و زر کی عبث ہے میاں

    جب ہے مثل چراغ سحر آدمی

    ملک بیمار ہے قوم بیمار ہے

    کہہ دو ڈھونڈے کوئی چارہ گر آدمی

    دعویٔ امن و راحت ہے تم کو تو پھر

    کیوں پریشان ہے آج ہر آدمی

    بے ہنر لوگ ہیں منظر عام پر

    اور گوشہ نشیں با ہنر آدمی

    پہلے رکھتا تھا سینے میں خوف خدا

    آج رکھتا ہے دنیا کا ڈر آدمی

    گرد میرے سبھی با ہنر لوگ ہیں

    میں ہی کاوشؔ ہوں اک بے ہنر آدمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے