Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ آئے وعدے پہ آئے مگر رقیب کے ساتھ

شمس الدین تاباں

وہ آئے وعدے پہ آئے مگر رقیب کے ساتھ

شمس الدین تاباں

MORE BYشمس الدین تاباں

    وہ آئے وعدے پہ آئے مگر رقیب کے ساتھ

    عجب مذاق کیا مجھ سے غم نصیب کے ساتھ

    حریف دار و رسن تھے وہ قامت و گیسو

    گیا تھا شوق شہادت جہاں صلیب کے ساتھ

    اسی نسیم کو ہم سب شمیم کہتے ہیں

    لگی لگی جو چلے دامن حبیب کے ساتھ

    ادائے خاص سے دل لے گیا ہے دل دشمن

    دل غریب کی قسمت دل غریب کے ساتھ

    وہ میرے ساتھ جو بیٹھے تو اس طرح بیٹھے

    کہ جیسے اک متمول کسی غریب کے ساتھ

    مجھے ہی چین سے رکھا نہ خود سکوں سے رہا

    یہ سابقہ تھا دل عافیت رقیب کے ساتھ

    میں نامراد ہوں لیکن نہ ہے جہالت غم

    وہ بے ادب نہ ہوئے مجھ سے بد نصیب کے ساتھ

    ہو دشمن دل و جاں میرے جان و دل ہو کر

    یہ جور اور پھر اس نسبت قریب کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے