وہ آئے وعدے پہ آئے مگر رقیب کے ساتھ
وہ آئے وعدے پہ آئے مگر رقیب کے ساتھ
عجب مذاق کیا مجھ سے غم نصیب کے ساتھ
حریف دار و رسن تھے وہ قامت و گیسو
گیا تھا شوق شہادت جہاں صلیب کے ساتھ
اسی نسیم کو ہم سب شمیم کہتے ہیں
لگی لگی جو چلے دامن حبیب کے ساتھ
ادائے خاص سے دل لے گیا ہے دل دشمن
دل غریب کی قسمت دل غریب کے ساتھ
وہ میرے ساتھ جو بیٹھے تو اس طرح بیٹھے
کہ جیسے اک متمول کسی غریب کے ساتھ
مجھے ہی چین سے رکھا نہ خود سکوں سے رہا
یہ سابقہ تھا دل عافیت رقیب کے ساتھ
میں نامراد ہوں لیکن نہ ہے جہالت غم
وہ بے ادب نہ ہوئے مجھ سے بد نصیب کے ساتھ
ہو دشمن دل و جاں میرے جان و دل ہو کر
یہ جور اور پھر اس نسبت قریب کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.