سوتے میں جو چل پڑتا ہوں میں یار کے پیچھے
سوتے میں جو چل پڑتا ہوں میں یار کے پیچھے
جل کر ہیں رقیب اب مرے آزار کے پیچھے
چپکے سے کھلائیں گے کوئی گل جو یہ حضرت
خاموش کھڑے ہیں تری دیوار کے پیچھے
منزل کا اسے علم نہ رستے کا پتا ہے
کیوں چلتے ہو پھر قافلہ سالار کے پیچھے
اخلاق و مروت سے وہ سمجھاتے ہیں مجھ کو
پھر آپ کا سر ہے مری پیزار کے پیچھے
ہوگا نہ کوئی فائدہ بہلانے کا دل کو
جائے گا اسی حسن دل آزار کے پیچھے
جب شہر میں کہتے ہیں سبھی آپ کو اچھا
کیوں پڑ گئے پھر مجھ ہی گنہ گار کے پیچھے
آئی نہ خراش ایک بھی ضامنؔ کے گلے پر
وہ خود ہی تڑپنے لگے تلوار کے پیچھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.