جلوہ گہہ دہر میں حسن ازل کی طرح
جلوہ گہہ دہر میں حسن ازل کی طرح
آپ رہیں گے جواں میری غزل کی طرح
اف یہ حسیں زاویے آپ کی رفتار کے
بہتی ہو جیسے ندی سانپ کے بل کی طرح
رات کچھ ایسے کھلی چاندنی احساس کی
تیر گئے آنکھ میں اشک کنول کی طرح
توڑ کے زندان غم لوگ ہوا ہو گئے
میں ہوں اسیر وفا آج بھی کل کی طرح
آپ سے ملنے کے بعد سانس نہ لی جا سکی
دل میں اٹھا درد سا رد عمل کی طرح
شنکھ بجا یاد کا پنکھ لگے سوچ کو
بیتے زمانے کئی اڑ گئے پل کی طرح
دل میں لیے حسرتیں دور سے دیکھوں قتیلؔ
زیست ہے میرے لیے راج محل کی طرح
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.