بول کے دیکھیے انداز سے کھل جاتا ہے
بول کے دیکھیے انداز سے کھل جاتا ہے
دل کا دروازہ ہے آواز سے کھل جاتا ہے
لوگ صورت سے پرکھ لیتے ہیں سیرت کا مزاج
کیا ہے انجام یہ آغاز سے کھل جاتا ہے
دل کا جو حال ہے وہ تم کو بتائیں کیسے
راز تو راز ہے ہمراز سے کھل جاتا ہے
سب سے کھلتا نہیں اے دوست گھٹاؤں کا بھرم
غالباً گیسوئے شہناز سے کھل جاتا ہے
عین ممکن ہے جواں عشق اگر چاہے تو
عقدۂ حسن بڑے ناز سے کھل جاتا ہے
مطربہ چھیڑ سر بزم کوئی تازہ غزل
نغمۂ عشق فسوں ساز سے کھل جاتا ہے
حوصلہ چاہئے اڑنے کے لئے اے مضطرؔ
پر شکستہ سہی پرواز سے کھل جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.