آنکھیں بھی دل کی ہوتی ہیں غماز دیکھنا
آنکھیں بھی دل کی ہوتی ہیں غماز دیکھنا
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
جو دشمن بہار تھے گل پوش ہو گئے
کانٹوں پہ چل رہے ہیں چمن ساز دیکھنا
تنہائیوں کی کون سی منزل پہ آ گئی
ہے اجنبی سی اپنی ہی آواز دیکھنا
مانا کہ بول بالا ابھی ظلمتوں کا ہے
چمکے افق تو صبح کے انداز دیکھنا
شاہین کو بھلا کسی آنگن سے کیا غرض
دے آسمان پھر مری پرواز دیکھنا
جس نے زبان کاٹ دی آواز چھین لی
ہاتھوں میں دے گیا وہی اک ساز دیکھنا
پتھر کو پھول پھول کو پتھر بنا دیا
اس کی نگاہ ناز کا اعجاز دیکھنا
کل بھی حسین اور جواں تھی غزل علیؔ
کس رنگ میں ہے آج یہ شہناز دیکھنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.