قریۂ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے
قریۂ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے
یاد چوکھٹ پر کھڑی ہے اور گھر خاموش ہے
ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے
چاک سرگرم عمل ہے کوزہ گر خاموش ہے
دل کی وہ آواز جس کو سن کے وہ پلٹا نہ تھا
وہ صدا اب بھی ہوا کے دوش پر خاموش ہے
کر گئے ہجرت پرندے جس کی شاخ سبز سے
آج تک رستے میں وہ تنہا شجر خاموش ہے
آس میں کس کی دریچہ جاگتا ہے رات بھر
اک دیا کس کے لیے یوں بام پر خاموش ہے
منتظر ہے کس کی آہٹ کی یہ پگڈنڈی غزلؔ
کس کی خاطر دور تک یہ رہگزر خاموش ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.