Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قریۂ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے

ذکیہ غزل

قریۂ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے

ذکیہ غزل

MORE BYذکیہ غزل

    قریۂ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے

    یاد چوکھٹ پر کھڑی ہے اور گھر خاموش ہے

    ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے

    چاک سرگرم عمل ہے کوزہ گر خاموش ہے

    دل کی وہ آواز جس کو سن کے وہ پلٹا نہ تھا

    وہ صدا اب بھی ہوا کے دوش پر خاموش ہے

    کر گئے ہجرت پرندے جس کی شاخ سبز سے

    آج تک رستے میں وہ تنہا شجر خاموش ہے

    آس میں کس کی دریچہ جاگتا ہے رات بھر

    اک دیا کس کے لیے یوں بام پر خاموش ہے

    منتظر ہے کس کی آہٹ کی یہ پگڈنڈی غزلؔ

    کس کی خاطر دور تک یہ رہگزر خاموش ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے