حاصل عمر سوا موت کے جب کچھ بھی نہیں
حاصل عمر سوا موت کے جب کچھ بھی نہیں
چار دن کے لئے یہ عیش و طرب کچھ بھی نہیں
وجہ کیا تم سے کہوں اس کی طبیعت ہی تو ہے
دل کو اک جوش ہے روتا ہوں سبب کچھ بھی نہیں
زندگی میں تو رہا کرتے تھے کیا کیا ساماں
قبر میں بعد فنا آئے تو اب کچھ بھی نہیں
نہ وہ احباب نہ وہ لوگ نہ وہ شمع نہ بزم
صبح دم وہ اثر جلسۂ شب کچھ بھی نہیں
کوئی اکبرؔ سا بھی دیوانہ نظر آتا ہے
پہروں روتا ہے جو پوچھو تو سبب کچھ بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.