زندگی ہے کہ یاس کا موسم
زندگی ہے کہ یاس کا موسم
جب بھی دیکھوں ہے پیاس کا موسم
اور عریاں سی ہو گئی دنیا
جب سے آیا لباس کا موسم
ایک شعلہ تھا بجھ گیا وہ بھی
سرد ہے آس پاس کا موسم
اب کسی باب میں سما جائیں
آ گیا اقتباس کا موسم
کیسے ریشم کا کاروبار چلے
آج کل ہے کپاس کا موسم
سانس ڈر ڈر کے چل رہی ہے علیؔ
ہر طرف ہے ہراس کا موسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.