اس کی آنکھوں کے دریچوں میں اتر جانا ہے
اس کی آنکھوں کے دریچوں میں اتر جانا ہے
جام کا جام ہے مے خانے کا مے خانہ ہے
جان جاناں کے حسیں جلوے ہیں تنہائی بھی
بزم کی بزم ہے ویرانے کا ویرانہ ہے
بھول کر بھی تری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم
خوف کا خوف ہے افسانے کا افسانہ ہے
آنکھوں آنکھوں میں ہوئی بات کوئی کیا جانے
راز کا راز ہے نذرانے کا نذرانہ ہے
تیرے دیدار کو یوں میری ترستی ہے نظر
پیاس کی پیاس ہے پیمانے کا پیمانہ ہے
بے خودی دل کی بکھرنے نہیں دیتی مجھ کو
عشق کا عشق ہے دیوانے کا دیوانہ ہے
بس غم یار نے تجھ کو ہے سنبھالا امجدؔ
خوف تنہائی سے ورنہ تجھے مر جانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.