Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس کی آنکھوں کے دریچوں میں اتر جانا ہے

امجد رحمانی

اس کی آنکھوں کے دریچوں میں اتر جانا ہے

امجد رحمانی

MORE BYامجد رحمانی

    اس کی آنکھوں کے دریچوں میں اتر جانا ہے

    جام کا جام ہے مے خانے کا مے خانہ ہے

    جان جاناں کے حسیں جلوے ہیں تنہائی بھی

    بزم کی بزم ہے ویرانے کا ویرانہ ہے

    بھول کر بھی تری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم

    خوف کا خوف ہے افسانے کا افسانہ ہے

    آنکھوں آنکھوں میں ہوئی بات کوئی کیا جانے

    راز کا راز ہے نذرانے کا نذرانہ ہے

    تیرے دیدار کو یوں میری ترستی ہے نظر

    پیاس کی پیاس ہے پیمانے کا پیمانہ ہے

    بے خودی دل کی بکھرنے نہیں دیتی مجھ کو

    عشق کا عشق ہے دیوانے کا دیوانہ ہے

    بس غم یار نے تجھ کو ہے سنبھالا امجدؔ

    خوف تنہائی سے ورنہ تجھے مر جانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے