ابھرے کوئی گلی کوئی رستہ دکھائی دے
ابھرے کوئی گلی کوئی رستہ دکھائی دے
دل کے غموں کا کچھ تو مداوا دکھائی دے
تحریر اس کی دیکھ کے یوں خوش ہوا ہے دل
پیاسے کو جیسے دور سے دریا دکھائی دے
کیا سوچ کر نظارۂ کون و مکاں کریں
جب زندگی ہی اپنی تماشا دکھائی دے
شہر صنم میں گرمئ بازار دیکھ کر
ہر شخص چاہتا ہے سجیلا دکھائی دے
اس درجہ ہے اداس دل زار شام ہجر
جھونکا خنک ہوا کا دلاسا دکھائی دے
پھرتے ہیں اس خیال سے ہم کو بہ کو فضیلؔ
شاید کہیں وہ چاند سا چہرا دکھائی دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.