تھلوں میں چشمۂ برفاب کی طرح ہوں میں
تھلوں میں چشمۂ برفاب کی طرح ہوں میں
خود اپنے واسطے اک خواب کی طرح ہوں میں
نکل چکا ہوں میں تجھ سے مگر مرے دریا
اب ایک ماہیٔ بے آب کی طرح ہوں میں
مرے بغیر تشخص ترا بھی ہے مشکوک
تو لفظ ہے ترے اعراب کی طرح ہوں میں
خوش آمدید بغیر امتیاز نسل و زباں
مزاج خطۂ پنجاب کی طرح ہوں میں
کوئی بھی شکل ہو میں روشنی بکھیرتا ہوں
کبھی دیے کبھی محراب کی طرح ہوں میں
مجھے گرفت میں رکھ مجھ کو چاہنے والے
تو جانتا ہے کہ سیماب کی طرح ہوں میں
رقیب پڑھ نہ سکے گا تری کتاب حیات
کہ اس میں ایک حسیں باب کی طرح ہوں میں
مجھے بھی یاد ہے بچپن کی رنجشوں کی طرح
وہ شخص جس کے لیے خواب کی طرح ہوں میں
ظہیرؔ وہ مری اک لہر کو ترس رہے ہیں
جنہیں گلہ تھا کہ سیلاب کی طرح ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.