خود کو اپنا چہرہ پیارا لگتا ہے
خود کو اپنا چہرہ پیارا لگتا ہے
تب جا کر کمرے میں شیشہ لگتا ہے
میں اس کو بس اپنے جیسا لگتا ہوں
اور وہ مجھ کو میری دنیا لگتا ہے
خواب نیا آنے ہی تک ان آنکھوں کو
پہلے والا خواب سنہرا لگتا ہے
ہاتھ اسی کا ہے قصہ الجھانے میں
وہ کردار جو سب کو اچھا لگتا ہے
اس دنیا میں ہر انساں کا جسم مجھے
دھوپ کے آگے برف کا ٹکڑا لگتا ہے
پیاسے رہ کر دریا کو ٹھکرانے کا
صبر کمانے میں اک عرصہ لگتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.